26 ستمبر 2012 - 20:30

سعودی عرب کی آمر حکومت کےجرائم کاسلسلہ جاری ہے تازہ ترین واقعےمیں سعودی عرب کےسیکورٹی اہلکاروں نے مظاہرین پربراہ راست فائرنگ کرکےکئی مظاہرین کوشہیداورزخمی کردیا۔

ابنا: سعودی عوام کوگذشتہ ڈیڑہ سال سے آل سعود کےفوجیوں کی جارحیت کاسامنا ہے اوران کاجرم صرف یہ ہےکہ وہ اپنےملک میں جمہوریت کامطالبہ کررہےہيں ۔سعودی عوام گذشتہ ڈیڑہ برسوں سےمظاہروں کےذریعے آزادی بیان، سیاسی قیدیوں کی آزادی اورناانصافی نیزامتیازی سلوک کےخاتمےکامطالبہ کرتےرہے ہيں اوراس ملک ميں سیاسی تبدیلیوں کےخواہاں ہيں۔سعود عرب میں عوامی مظاہروں اورتحریکوں میں فروغ سےپتہ چلتاہےکہ آل سعود کواپنےملک میں بھی اسلامی بیداری کی لہرکاسامناہےلیکن وہ تشدد اورقتل عام کےذریعےعوامی مطالبات کاجواب دےرہی ہے۔آل سعود کی جانب سےپرامن مظاہرین اوراپنےجمھوری حق کامطالبہ کرنےوالے عوام کوخاک وخون میں غلطاں کرنےکےاقدام سےیہ حقیقت کھل کرسامنےآگئي ہےکہ آل سعود، ایک جابر، ظالم، ڈکٹیٹر، اورانسانی حقوق اورعالمی قوانین کوپامال کرنےوالی شاہی حکومت ہے جواپنااقتداربچانےکےلئے ہرطرح کےجرائم کےارتکاب کوجائز سمجھتی ہے۔آل سعود کےجرائم سےسعودی عوام میں تشویش کی ایک لہردوڑگئي ہے اوریہ ایسےعالم میں ہےکہ مغربی حکومتیں آل سعود کےجرائم کےسامنےپوری طرح خاموش ہیں ۔اس تناظرمیں سعودی عرب کےسیاسی امور کےماہرفواد ابراہیم نےکہاہےکہ آل سعود، سعودی عرب میں انسانی حقوق کومنظم طریقےسےپامال کررہی ہے اس بناپر اس ملک میں انسانی حقوق کی پامالی کامسئلہ عالمی سطح پراٹھایاجاناچاہئے۔سعودی عرب کےاس سیاسی ماہرکاکہناہےکہ اس وقت سیاسی کارکنوں اورشخصیتوں کی گرفتاری کامسئلہ ، سعودی عوام کابنیادی مسئلہ بن گیاہے اورآل سعود سیاسی کارکنوں کوگرفتارکرکے بعض نسلی اورمذہبی گروہوں پردباؤ ڈالے۔بنابرایں انسانی حقوق کےکارکنوں کےاعلان کےمطابق اس وقت تقریباتیس ہزارسیاسی رہنمااورکارکن سعودی جیلوں میں ہیں جن کےسلسلےمیں نہ توکوئي چارج شیٹ داخل کی گئی ہے اورنہ ہی مقدمہ چلایاجارہا ہے۔سعودی عرب کی سیاسی شخصیت جمال ابوعلی پرامن مظاہرین کی سرکوبی کوآل سعود کی دائمی پالیسی قراردیتےہيں۔ابوعلی نےامریکہ میں پیغمبراسلام (ص) کےسلسلےمیں توہین آمیزفیلم بنائےجانے کےخلاف سعودی عرب میں ہونےوالےمظاہروں کوسختی سےکچل دیئےجانےکوبھی پیغمبراسلام(ص) اورمسلمانوں کےمقدس مقامات کےتئيں آل سعود کی بےتوجھی کاکھلاثبوت قراردیا۔سعودی عرب پربرس ہابرس سےاپنی امرانہ حکومت قائم کرنےوالی آل سعود ایک طرف عالم اسلام کی نام نہاد ٹھیکیداربننے کی کوشش کرتی ہے اسےعوام تودرکنارپیغمبراسلام (ص) اور مقدس مقامات کی حرمت تک کاپاس ولحاظ نہيں ہے۔

.....

/169